Wishlist & Checkout page is available for premium users Buy Now

رسول کریم ﷺ کی رضائی مائیں رضائی رشتے

۔ ─━•<☆⊰ رضائی رشتے ⊱☆>•━─

۔      ⫷ حصّہ اوّل ⫸


رسول کریم ﷺ کی رضائی مائیں

۔***********************


نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، ولادت کے بعد ابتدائی ایام میں آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللّٰہ عنہ نے ہی دودھ پلایا۔ مؤرخین اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو سات دنوں تک دودھ پلایا۔

(سبل الہدی والرشاد: ۱؍۳۷۵)


حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلوی لکھتے ہیں کہ ولادت باسعادت کے بعد تین چار روز تک آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو دودھ پلایا۔

(سیرۃ المصطفٰی : ۱؍۶۸)


سیرت حلبیہ میں ہے کہ آپ ﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے نو دنوں تک دودھ پلایا۔

 (سیرت حلبیہ : ۱؍۱۲۹)


١۔ ثُوَیْبَہ اَسْلَمِیَّہ

۔"" "" "" "" ""

والدہ ماجدہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے پاس جانے سے پہلے آپؐ کو آپؐ کے چچا ابولہب کی باندی حضرت ثویبہؓ نے دودھ پلایا۔ جس وقت آپ ﷺ نے دودوھ پیا اس وقت وہ آزاد ہو چکی تھیں۔ کیونکہ ابولہب کو بھتیجے کی ولادت کی خبر حضرت ثویبہؓ نے جس وقت دی تھی اسی وقت ابولہب نے ان کو آزاد کر دیا تھا۔ اس کا صلہ ابولہب کو بھی ملا کہ اسے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں تھوڑا سا پانی نصیب ہو گیا۔ روایت میں ہے کہ جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا؟

اس نےجواب دیا کہ جب سے تم سے جدا ہوا ہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں۔ البتہ ثویبہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے۔

(صحیح بخاری : ۵۱۰۱)


علامہ ابن کثیر نے علامہ سہیلی سے نقل کیا ہے کہ خواب دیکھنے والے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللّٰہ عنہ تھے، اور یہ خواب ابولہب کی وفات کے ایک سال بعد دیکھا۔ حضرت عباس ؓ نے فرمایا کہ (چونکہ ولادت اور آزادی پیر کے دن ہوئی، اس لئے) ابولہب کو یہ راحت پیر کے دن ملتی ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر: ۱؍۲۲۴، البدایہ والنہایۃ : ۲؍۲۷۳)


حضرت ثویبہؓ نے آپ ﷺ کو اپنے بیٹے مسروح کے ساتھ  تقریباً چار ماہ دودھ پلایا۔ جنابِ ثویبہ نے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ،زید ابن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد المخزومی رضی اللہ عنہ کو مختلف اوقات میں دودھ پلایا تھا۔ اس طرح یہ نبی اکرم ﷺ کے رضاعی بھائی ہوئے۔

(زاد المعاد فی ہدی خیرالعباد: ۱؍۸۱)


حضرت ثویبہؓ کے اسلام قبول کرنے کے سلسلہ میں سیرت نگاروں اور مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ بہت سے حضرات ان کے مسلمان ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ ابونعیم اصفہائی ؒ نے حلیۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ میرے علم کے مطابق متقدمین میں سے کسی نے ان کے اسلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔

(حلیۃ الاولیاء: ۶؍۳۲۸۴)


علامہ قرطبی نے بھی لکھا ہے کہ انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔

(الاستیعاب: ۱؍۳۷۰)


جبکہ ابن سید الناسؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ البتہ عام مہاجرین کے ساتھ انہوں نے ہجرت نہیں کی۔ اور علامہ علاؤ الدین مغلطائی نے مستقل ایک رسالہ لکھ کر ان کے اسلام کو ثابت کیا ہے۔ جس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابن حبان نے ایک حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جس سے ان کا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہے، اور بعض حضرات نے ذکر کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جس خاتون نے بھی دودھ پلایا وہ مشرف باسلام ہوئیں۔(سیرالصحابیات: ۵۳)


لیکن زیادہ تر محققین ان کے مسلمان ہونے کے قائل نہیں ہیں۔ پھر بھی بہتر یہ ہے جب دونوں طرح کے اقوال ہیں تو ان کے اسلام و کفر کے بارے میں توقف کیا جائے۔ صحیح حقیقت حال سے اللّٰہ واقف ہے۔


نبی اکرم ﷺ ہجرت کے بعد مکہ آنے جانے والوں کے ذریعہ ان کی خدمت میں تحفے اور کپڑے بھیجا کرتے تھے۔ سن سات ہجری میں خیبر سے واپسی کے موقع پر آپ ﷺ کو ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی۔ آپ ﷺ نے اس موقع پر ان کے بیٹے مسروح کے بارے میں بھی پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے تو آپ کو یہ بتایا گیا کہ مسروح کا ثویبہ سے پہلے انتقال ہو چکا ہے اور اب ان کا کوئی عزیز و قریب دنیا میں نہیں ہے۔

(الطبقات الکبری : ۱؍۸۷)


۔ ─━•<☆⊰✿ جاری ہے ✿⊱☆>•━─



 ۔ ─━•<☆⊰ رضاعتِ رسول ﷺ ⊱☆>•━─


رسول کریم ﷺ کی رضاعی مائیں :

۔************************

۔      ⫷ حصّہ دوم ⫸


حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللّٰہ عنہا :

۔*************************

حليمہ بنت ابی ذؤيب (وفات: 8ھ/ 629ء) آنحضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔ بی بی ثویبہ کے بعد حضور ﷺ کو آپ نے ہی آخر تک دودھ پلایا۔ اس وقت آپ کے ساتھ عبداللہ ابن حارث کو بھی دودھ پلایا۔ آپ کی بڑی بیٹی شیما ننھے حضور ﷺ کو گود میں کھلاتی لوریاں دیتی تھیں۔ چار پانچ سال حلیمہ کے پاس بادیہ بنو سعد میں مقیم رہے۔ پھر آپ کی والدہ حضرت آمنہؓ کے پاس پہنچا گئیں۔ آنحضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ آپ کی تربیت بنو سعد میں ہوئی تھی اس لیے آپ کی زبان بالکل بے عیب ہے ۔


سلسلہ نسب :

۔"" "" "" "" "

حليمہ بنت ابی ذؤيب بن عبداللہ بن الحارث بن شجنہ بن جابر بن رزام بن ناصرہ بن سعد بن بكر بن ہوازن ہے۔ انہیں ہی حلیمہ بنت عبد اللہ بھی کہا جاتا ہے۔


آنحضور ﷺ کی رضاعت :

۔"" "" "" "" "" "" "" "" ""

عرب کے شہری باشندوں کا دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو شہری امراض سے دور رکھنے کے لئے دودھ پلانے والی بدوِی عورتوں کے حوالے کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کے جسم طاقتور اور اعصاب مضبوط ہوں اور اپنے گہوارہ ہی سے خالص اور ٹھوس عربی زبان سیکھ لیں۔ اسی دستور کے مطابق حضرت عبد المطلب نے دودھ پلانے والی دایہ تلاش کی اور نبی اکرم ﷺ کو قبیلہ بنی سعد بن بکر کی ایک خاتون حضرت حلیمہؓ بنت ابی ذُوَیب کے حوالے کیا۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبد العزیٰ اور کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بھی قبیلہ بنی سعد ہی سے تعلق رکھتے تھے۔


حالاتِ زندگی :

۔"" "" "" "" ""

حضرت حلیمہ سعدیہؓ سے عبداللہ ابن جعفر رضی اللہ عنہ نے احادیث سنیں، حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے لقب سے مشہور ہیں، قبیلہ ہوازن سے تھیں، اس قبیلہ سے غزوہ حنین میں جنگ ہوئی، مسلمانوں کو فتح ہوئی مگر بعد میں ہوازن مسلمان ہو گئے۔ آنحضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے قیدی جو غلام بنائے گئے تھے واپس کر دیئے۔ کہ وہ حلیمہ کے اہل قرابت تھے۔

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد ٨، صفحہ ۵۵٢)


غزوہ حنین کے موقع پر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں۔ آپ ان کے لئے کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر بچھا دی۔ حضرت حلیمہؓ اور حضرت حلیمہؓ کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے۔

(مرقات اشعہ، بحوالہ مرآۃ شرح مشکوٰۃ، جلد ٦، صفحہ ۷٦۷)


ایک مرتبہ مدینہ میں آئیں تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم اپنی نشست سے اٹھے، ”میری پیاری امی، میری محترم ماں، آئیے ، تشریف لائیے ۔“ پھر آپ نے چادر بچھا کر عزت و تکریم سے ان کو اس پر بٹھایا۔ حضرت حلیمہؓ کی بیٹی شیما کے بھی حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آنے کا واقعہ تاریخ میں ملتا ہے۔ وہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی رضاعی بہن تھیں۔ آپ نے ان کا بھی بہت اکرام کیا تھا۔


مقامِ عظیم :

۔"" "" "" ""

سیدہ حلیمہؓ کے بارے میں یہ روایت بھی تاریخ میں منقول ہے کہ وہ آنحضورؐ کے دور جوانی میں، سیدہ خدیجہؓ کی موجودگی میں مکے حاضر ہوئی تھیں۔ حضرت خدیجہؓ نے ان کی خدمت میں کئی اونٹ اور اونٹنیاں پیش کی تھیں۔ مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت نبی پاک نے بکریوں کا ایک ریوڑ اور ساز و سامان سے لدی ایک ناقہ ان کی خدمت میں پیش کی۔ وہ ان تحائف سے زیادہ اس بات پر شاداں و فرحاں تھیں کہ ان کے رضاعی بیٹے کو اللّٰہ نے اس سے بھی بلند مقام عطا فرمایا تھا۔ جس کی دعائیں اور تمنائیں بھی وہ کرتی تھیں اور جس کی امیدیں بھی اللّٰہ کی ذات سے انہوں نے قائم کر رکھی تھیں۔ سیدہ حلیمہؓ کا عظیم مقام ہے۔ وہ آنحضورؐ کی والدہ ہیں !


اولاد :

۔"" ""

آنحضور ﷺ کے چار رضاعی بھائی بہن تھے۔ عبد اللہ بن الحارث، انیسہ بنت الحارث، حذافہ بنت الحارث اور شیماء بنت الحارث۔

(السيرة النبويہ المؤلف : محمد بن إسحاق)


رضاعی بہنیں دو تھیں، انیسہ بنت الحارث، حذافہ یا جذامہ بنت الحارث، جو الشَیْمَاء کے نام سے مشہور تھیں ۔

(زادالمعاد:٦٦/١، ط :المکتبہ العصریہ، بیروت)


حضرت عبد اللہ اور شیما کا اسلام لانا ثابت ہے۔


شیما بنت حارث :

۔"" "" "" "" "" ""

حذافہ یا جذامہ بنت الحارث، جو الشَیْمَاء کے نام سے مشہور تھیں ۔

(زادالمعاد : ٦٦/١)


سیدہ حلیمہ سعدیہؓ کی بیٹی اور رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی بہن تھیں۔ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا بچپن آپ کے ساتھ گزرا۔ کتب سیرت سے آپ کا اسلام لانا ثابت ہے۔ شیما اصلاً عربی زبان کا لفظ ہے۔ درست تلفظ ہے: شَیماء (اسم الشيماء تعني : العزة والشرف وعلو المكانة) جس کے معنی ہیں عزت و شرف اور بلند رتبہ۔

جب لوگوں نے ان کو گرفتار کیا تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے نبی کی بہن ہوں۔ مسلمان ان کو شناخت کے لئے بارگاہِ نبوت میں لائے تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو پہچان لیا اور جوشِ محبت میں آپؐ کی آنکھیں نم ہو گئیں اور آپؐ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھا کر ان کو بٹھایا اور کچھ اونٹ کچھ بکریاں ان کو دے کر فرمایا کہ تم آزاد ہو۔ اگر تمہارا جی چاہے تو میرے گھر پر چل کر رہو اور اگر اپنے گھر جانا چاہو تو میں تم کو وہاں پہنچا دوں۔ انہوں نے اپنے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی تو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ وہ ان کے قبیلے میں پہنچا دی گئیں۔

(المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ اوطاس ،جلد ٣، صفحہ ۵٣٣ ،

 طبری جلد ٣ صفحہ ٦٦٨)


انیسہ بنت حارث :

۔"" "" "" "" "" "" 

انیسہ بنت الحارث العزیٰ بھی رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی رضاعی بہن تھیں۔ بعض جگہ آسیہ نام ہے جو حلیمہ سعدیہؓ کی بیٹی تھیں۔

(مواہب اللدنیہ ،امام قسطلانی، جلد اول مقصدثانی صفحہ ۵٨٩)


عبد اللّٰہ بن الحارث :

۔"" "" "" "" "" "" ""

عبد اللّٰہ بن الحارث بن سعد العزى السعدي۔حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے بیٹے اور رسول اکرم ﷺ کے رضائی بھائی تھے۔ جن کے ساتھ آپ ﷺ نے حلیمہ سعدیہؓ کا دودھ پیا تھا۔

 

وفات اور تدفین :

۔"" "" "" "" "" ""

سیدہ حلیمہؓ بنت ذويب آٹھ ہجری کو انتقال کر گئیں۔ بی بی حلیمہ کی قبر انور مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے اندر ہے۔

(جنتی زیور، عبد المصطفٰی اعظمی، صفحہ ۵١٢، ناشر مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)


لاکھوں سلام سیدہ حلیمہ سعدیہؓ اور ان کے اہلِ خانہ پر ۔


۔ ─━•<☆⊰✿ جاری ہے ✿⊱☆>•━─



۔ ─━•<☆⊰ رضاعتِ رسول ﷺ ⊱☆>•━─


رسول کریم ﷺ کی رضائی مائیں :

۔************************

۔      ⫷ حصّہ سوم ⫸


ام فروہ :

۔"" "" "

حافظ ابوالعباس جعفر بن محمد مستغفری نے آپ کی رضاعی ماؤں میں اُمّ فروہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور انہیں سے دیگر سیرت نگاروں نے اس کو نقل کیا ہے۔ صاحبِ سیرت حلبیہ لکھتے ہیں:


وأرضعته صلى الله عليه وسلم أم فروة

(سیرت حبلیہ : ۱؍۱۲۹)

آپ ﷺ کو ام فروہ نے دودھ پلایا۔


ان کی حالات زندگی کی تفصیلات کتابوں میں نہیں مل سکی۔


بنوسلیم کی تین خواتین :

۔"" "" "" "" "" "" "" "" ""

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کو بنوسلیم کی تین کنواری لڑکیوں نے بھی دودھ پلایا۔ انہوں نے اپنا سینہ جونہی نبی اکرم ﷺ کے منہ سے لگایا دودھ جاری ہو گیا۔ جسے آپ ﷺ نے پیا، اور اتفاق یہ کہ ان تینوں کا نام عاتکہ تھا۔

(السیرۃ الحلبیہ : ۱؍۱۲۹)


ان کے علاوہ بھی بعض خواتین کے نام رضاعی ماں کے طور پر ملتے ہیں، لیکن اکثر سیرت نگاروں نے انہیں رضاعی ماں تسلیم نہیں کیا ہے، اس لئے یہاں ان کو ذکر نہیں کیا گیا ہے۔


۔ ─━•<☆⊰✿ جاری ہے ✿⊱☆>•━─

Post a Comment

0 Comments