Wishlist & Checkout page is available for premium users Buy Now

قوم مر رہی ہے حکمران کدھر ہیں؟؟؟

 قوم مر رہی ہے حکمران کدھر ہیں؟؟؟


جناح ھسپتال لاھور کی ایمرجنسی صبح 7 بجے کر 49 منٹ پر ایک شخص چادر لپیٹے موٹر سائیکل سے اترتا ھے اور سیدھا ایم ایس آفس کی جانب چل پڑتا ھے، اگلے 15 منٹ پورے ھسپتال میں کھلبلی مچ جاتی ھے، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور پورے سٹاف کی دوڑیں لگ چکی ھوتی ھیں، 

موٹر سائیکل پہ چادر لپیٹے آنے والا شخص کوئی مریض نہیں بلکہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف ھوتا ھے، اور اگلے آدھے گھنٹے میں ڈیوٹی پر نہ پہنچنے والے ایم ایس سمیت درجنوں ملازمین شامت آ جاتی ھے، اچانک وزٹ اور ھسپتال کی ناقص صفائی اور دیگر انتظامات کے باعث موقع پر ھی سزائیں ھوتی ھیں، 

اس کے بعد سارے ھسپتال ھائی الرٹ پہ لگ جاتے ھیں، کوئی ڈاکٹر کبھی لیٹ ھوتا ھے نہ پیرا میڈیکس، سب کے ذہن میں ایک ھی خوف بیٹھ جاتا ھے، وقت کی پابندی اور اپنا کام دھیان سے کرو ورنہ۔۔۔۔ شہباز شریف آ جائیگا،

ھم سب نے دیکھا کہ ڈینگی میں شہباز شریف نے بہترین کام کیا، میں اس وقت ڈینگی کی شدت کا چشم دید گواہ ھوں، مریض اتنے زیادہ تھے کہ ھم لوگوں نے سڑکوں پر لوگوں کو ڈرپس لگائیں، مجھے آج بھی وہ اتوار کی چھٹی والی ایمرجنسی یاد ھے جس دن ھم نے 1300 مریضوں کی ڈرپس لگا کر ریکارڈ قائم کیا تھا، اور مریض ابھی جاری تھے، عام دنوں کا تو اندازہ ھی نہیں،

یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے دور میں کام ھوتا دکھائی دیتا تھا، بیورو کریسی اس سے ڈرتی تھی، کرپشن بھلے تھی مگر کام بھی ھوتے تھے، شہر کی سڑکیں ھوں یا ھسپتال ، گلیاں ھوں یا پبلک پارکس ھر جگہ کام ھوتانظر آتا تھا،

ڈینگی میں موثر میڈیا اوئیرنیس مہم، ڈینگی سپرے، گاڑیوں میں اعلانات، احتیاطی تدابیر، حتی کہ نہر جو کہ سب سے بڑا ڈینگی رسک ھے کیونکہ اس میں ہمہ وقت پانی موجود رہتا ھے، پر روزانہ سپرے کرتی پنجاب حکومت کی گاڑیاں نظر آتی تھیں، سڑکوں پر پمفلٹ تقسیم کئے جاتے تھے، سکولوں کالجز، سمیت تمام اداروں میں روزانہ ڈینگی ٹیمیں جاتی تھیں، فیکٹریوں، ملوں، اور پبلک پلیسز پر چھاپے مارے جاتے تھے، احتیاطی تدابیر نہ کرنے والے اداروں کو وارننگ، جرمانے حتی کہ سیل بھی کیا جاتا تھا، اور اس طرح ھم ایک بہت بڑے ڈینگی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ھویے،

اب صورتحال کیا ھے، پنجاب بالخصوص لاھور میں ڈینگی پوری شدت سے حملہ آور ھے، جناح، میو، جنرل اور سروسز صرف چار ھسپتالوں کا ڈیٹا نکلوا لیں روزانہ ھزاروں کی تعداد میں ڈینگی کے مریض آ رھے ھیں، اس بار کا ڈینگی زیادہ لیتھل ھے لوگوں کی جانیں بھی لے رھا ھے،

مگر۔۔۔

ان تمام حالات میں بزدار حکومت کہاں ھے؟ کونسا اوئیرنس پروگرام چل رھا ھے، کہاں سپرے ھو رھا ھے، ھسپتالوں میں کیا انتظامات ھیں، مریضوں کیلئے بیڈ نہیں نہ دوائیاں اس کے بارے میں کونسی حکمت عملی ھے؟؟؟

نہر جو لاھور میں ڈینگی کا سب سے بڑا خطرہ ھے اس پر کب یا کتنی بار سپرے کیا گیا ھے کوئی مجھے بتا دے،

ان ت

ان حالات میں حکومت پنجاب کہاں ھے.


بشکریہ ڈاکٹر سیف اللہ صاحب جناح ہسپتال

Post a Comment

0 Comments